سارے سوالوں کے سارے جواب
Lubna Mirza نے Thursday، 4 February 2016 کو شائع کیا.

دنیا کی کوئی بھی کتاب یا اسکول آپ کو زندگی میں‌پیش آنے والے سارے سوالوں کے سارے جواب نہیں دے سکتے ہیں۔ کتابیں اور اسکول صرف سوچنا اور مسائل کا حل نکالنا ہی سکھا سکتے ہیں اور ان کو ایسے ہی دیکھنا بھی چاہئیے۔

میڈیسن کی پوری فیلڈ اتنی وسیع ہے کہ ایک انسان کو ساری میڈیسن نہیں‌آسکتی پھر جس طرح انفارمیشن تیزی سے پھیل رہی ہے کئی مختلف مضامین پر قابو ہونا مشکل ہے۔ اسی لئیے میں‌ہمیشہ سے اسپیشلٹی میں‌جانا چاہتی تھی۔ اس وقت مجھے اندازہ نہیں‌تھا کہ کون سا مضمون چنا جائے ۔ وہ آہستہ آہستہ بعد میں‌واضح ہوا۔

اس بات کی ایک مثال سمجھانے کے لئیے آج آپ کو ایک مریضہ کا قصہ بتاتی ہوں۔ مریضہ کی شناخت چھپانے کے لئیے کچھ انفارمیشن حزف اور کچھ تبدیل کردی گئی ہے کیونکہ مریضوں کی معلومات غیر متعلق لوگوں سے شئر کرنا اخلاقی اور قانونی لحاظ سے غیر مناسب ہے۔

کچھ سال پہلے ایک خاتون کو ہائی ٹرائی گلسرائڈ ہونے کی وجہ سے اینڈوکرائن کلینک میں‌ بھیجا گیا۔ ان کی عمر 50 سال فرض کرتے ہیں۔ جب ہمارے پاس مریض ریفر کئیے جاتے ہیں تو ہم لوگ صرف ان مریضوں کو دیکھنے کی زمہ داری لیتے ہیں‌جو ہماری اسپیشلٹی کے دائرے میں‌آتے ہوں۔ باقی مریضوں کے کاغز واپس ان کے پرائمری کئر کے پاس بھیجتے ہیں تکہ وہ ان جگہوں‌پر ریفر کریں‌جہاں‌ان کا بہتر مناسب علاج ہوسکے۔

جب میں‌نے ان کو دیکھا اور پوچھا کہ آپ نے کولیسٹرول کا علاج کروانے کے لئیے پہلے کون کون سی دوا لی ہے تو وہ بولیں کہ نہیں‌میں‌تو آپ کو زبان میں جلن کی شکایت کے لئیے دیکھنے آئی ہوں۔ میں نے ان سے کہا کہ آپ کا ریفرل ہائی ٹرائی گلسرائڈ کے لئیے قبول کیا گیا تھا۔ زبان میں‌جلن کے لئیے شائد آپ کا نیورالوجسٹ کو دیکھنا زیادہ مناسب ہوتا۔ یہ سنتے ہی ان کی آنکھوں‌میں‌آنسو نکل آئے اور وہ بولیں‌کہ مجھے دو سال سے یہ تکلیف ہے اور اس اپوائنٹمنٹ کا میں‌نے تین مہینے انتظار کیا ہے۔ یہ سن کر میں‌پریشان ہوگئی کہ اب ان کی کس طرح‌مدد کروں۔ اصل میں‌ میڈیکل اسکول اور جنرل میڈیسن کئیے اتنے سال ہوگئے ہیں‌کہ مجھے اب بہت ساری اپنی فیلڈ سے باہر کی چیزیں اب اتنی یاد بھی نہیں رہی ہیں۔ اینڈوکرائن کا فوکس زیابیطس، کولیسٹرول، اوسٹیوپوروسس، تھائرائڈ ، پیراتھائرائڈ اور دیگر ہارمون کی بیماریوں پر زیادہ ہوتا ہے۔ ان کے بعد کے دو مریض بھی اپنی باری کا انتظار کررہے تھے۔

میں‌نے سوچنا شروع کیا کہ کن کن وجوہات سے زبان میں‌جلن ہوسکتی ہے۔ ان کے پرانے ریکارڈ بھی پڑھے تو یہی دیکھا کہ زیادہ تر عام چیزیں‌جو ہوسکتی ہیں‌جیسے کہ فولاد کی کمی، زنک کی کمی اور وٹامن بی 12 کی کمی تو وہ سب ان کے گزشتہ ڈاکٹر چیک کرچکے ہیں اور سب لیب نارمل ہیں۔

پھر میں‌نے ان سے مزید سوالات پوچھنا شروع کئیے کہ یہ تکلیف آپ کو کب سے ہے اور اس سے پہلے کیا ہوا تھا۔ کہنے لگیں‌دو سال پہلے ایک سرجری کروائی تھی۔ سرجری کی نوعیت کی معلومات رہنے دیتے ہیں صرف یہ سمجھئیے کہ منہ سے کافی دور تھی اور اس کے بعد ان کے ٹھیک ہونے میں‌کچھ ٹائم لگا۔ اس کے بعد منہ کے گرد چھالے سے ہوگئے اور تب سے یہ تکلیف نہیں‌گئی۔ یہ ہسٹری سن کر میں‌نے سوچا کہ ہوسکتا ہے سرجری کے بعد امیون سسٹم ٹھیک سے کام نہیں‌کررہا ہو، اس سے ہو سکتا ہے کہ شنگلز کے چھالے ہو گئے ہوں‌جو کہ چکن پاکس کے وائرس سے ہو جاتی ہے۔ پھر یہ ہو سکتا ہے کہ وائرس کے نرو میں‌بیٹھ جانے سے ان کو پوسٹ ہرپیٹک نیورالجیا ہو گیا ہو۔ بظاہر دیکھنے میں‌ کوئی علامت موجود نہیں تھی۔

اب یہ ساری قیاس آرائی کے بعد میں نے سوچا کہ ان کو کیا دوا دی جائے۔ تو میرے جو بھی زیابیطس کے نیوراپیتھی کے مریض ہیں ان کو زیادہ تر گابا پینٹن، لائریکا ، سمبالٹا یا پھر میٹانیکس دیتی ہوں۔ گاباپینٹن سب سے زیادہ سستی ہے تو میں‌نے ان کو وہ لکھ دی۔ اور ہائی ٹرائی گلسرائڈ کے لئیے فینوفائبریٹ۔ پھر وہ چلی گئیں۔

دو مہینے کے بعد ایک دن وہ پھر واپس آگئیں فالو اپ کے لئیے۔ ان کا نام شیڈول پر دیکھ کر میں‌ پریشان ہوئی کہ یہ پھر سے واپس آگئی ہیں۔ جب میں نے ان کو دیکھا تو وہ بولیں کہ جو آپ نے دوا لکھ دی تھی اس سے 80% درد ختم ہوگیا ہے اور آپ اس دوا کو دن میں دو دفعہ لکھ دیں‌کیونکہ جب اثر ختم ہونے لگتا ہے تو درد واپس آنے لگتا ہے۔ یہ سن کر مجھے یقین ہی نہیں‌آیا۔ اور ٹرائی گلسرائڈ کا لیول دیکھا تو وہ بھی ٹھیک ہو گیا تھا۔

اس تجربے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ کتابوں اور اسکولوں کو سوچ کا آلہ بنانے کی ضرورت ہے تاکہ ان جگہوں‌پر جواب تلاش کئیے جاسکیں‌جہاں کوئی نشانی تک نہ ہو۔

لبنیٰ مرزا ایم ڈی


ٹیگز:-
شفا
Lubna Mirza نے Saturday، 30 January 2016 کو شائع کیا.

ہمارے خاندان میں‌ پہلے تو کوئی ڈاکٹر تھا ہی نہیں۔ ایک مجیب ماموں تھے ویٹ جن کو مزاق میں‌لوگ ڈنگر ڈاکٹر کہتے تھے ان کے پیچھے کیونکہ وہ فوج میں‌میجر تھے اور غصے کے تیز تھے۔ جانوروں‌کے ڈاکٹر کی اہمیت کوئی سمجھتا ہی نہیں تھا۔ جہاں‌ انسانوں‌کے مسائل سمجھے اور حل نہیں‌کئیے جارہے ہوں‌وہاں‌ جانوروں‌ […]

مکمل تحریر پڑھیے »


ٹیگز:-
Taj Mahal and my father
Lubna Mirza نے Friday، 29 January 2016 کو شائع کیا.

How the Taj Mahal brought me closer to my father The writer’s late father, architect Mirza Shujat Baig at the Taj I don’t remember my father’s face or his voice but he always guided me through the tough times Going to India was something I dreamed of since I was a little child. Growing up, […]

مکمل تحریر پڑھیے »


ٹیگز:-
ایک دن کا قصہ
Lubna Mirza نے Wednesday، 6 January 2016 کو شائع کیا.

آج میں نے دو خواتین مریض دیکھیں، ایک کالی اور ایک ہسپانوی۔ دونوں خواتین کی عمر کچھ اتنی زیادہ نہیں تھی لیکن ان میں کچھ باتیں مشترک تھیں اور کچھ ایسی جن سے میں خود تعلق محسوس کرسکتی تھی۔ دونوں امریکہ میں اقلیتی ہیں میری طرح۔ ایک ساؤتھ امریکہ سے ہجرت کر کے آئی ہوئی […]

مکمل تحریر پڑھیے »


ٹیگز:-
خزانہ تو دماغ میں‌ ہوتا ہے
Lubna Mirza نے Sunday، 27 December 2015 کو شائع کیا.

ہم لوگ سکھر میں‌ڈسٹرکٹ کونسل روڈ پر رہتے تھے۔ میرے والد علی گڑھ انڈیا سے 11 سال کی عمر میں‌حیدرآباد آگئے تھے جہاں‌انہوں‌نے ہمارے پھوپھا سے نقشے بنانا سیکھا اور سکھر آکر اپنی آئیڈیل کنسٹرکشن کمپنی اسٹارٹ کی۔ جب انہوں‌نے آفس کھولا تو اس وقت ان کے پاس پیسے بالکل نہیں‌تھے لیکن فرنیچر والے صاحب […]

مکمل تحریر پڑھیے »


ٹیگز:-
انسانیت کا رشتہ
Lubna Mirza نے Sunday، 27 December 2015 کو شائع کیا.
بچے ہمارے عہد کے
Lubna Mirza نے Wednesday، 29 April 2015 کو شائع کیا.
وقت ہمیشہ ایک سا نہیں‌رہتا
Lubna Mirza نے Tuesday، 7 April 2015 کو شائع کیا.
لڈو کی کہانی سب عمروں کے بچوں کے لئیے
Lubna Mirza نے Sunday، 16 November 2014 کو شائع کیا.
دل کے بہلانے کو
Lubna Mirza نے Thursday، 16 October 2014 کو شائع کیا.