امی کو زندہ اور صحت مند رکھو
Lubna Mirza نے Saturday، 23 April 2016 کو شائع کیا.

پچھلے سال جب ہم سارے بہن بھائی انڈیا جارہے تھے تو یہی پلان بنایا کہ ہمیں‌ سب کو الگ الگ جانا چاہئیے۔ اگر جہاز کریش ہوگیا اور پانچوں‌اکھٹے مر گئے تو امی اکیلی ہوجائیں‌گی۔ ان کو بہت غصہ آئے گا کہ پہلے ابا چھوٹے بچے چھوڑ کر چل بسے پھر یہ بچے اتنی مشکل سے بڑے کئیے تو وہ بھی سارے اکھٹے چلے گئے۔ یہ باتیں‌ کرتے ہوئے ہم لوگوں‌ کے قہقہے نکل گئے۔ جب آپ نے زندگی کی شروعات میں‌موت دیکھی ہو تو ایسے ہی موربڈ خیالات کا بن جانا آسان بات ہے اور ان پر ہنسنا بھی سیکھنا پڑتا ہے۔ امی کو زندہ اور صحت مند رکھو! یہ ہمارا فیملی ماٹو ہے۔
پچھلے ہفتے ایلک پرائمری کئر ڈاکٹر کا ٹیکسٹ آیا کہ میرے ایک مریض‌کو آپ کو فورا” دکھانے کی ضرورت ہے کیونکہ ان کا زیابیطس کا کنٹرول بہت بگڑا ہوا ہے۔ عموما” سب پیپر ریفرل بھیجتے ہیں اور ان کو تین مہینے بعد کی اپوانٹمنٹ ملتی ہے کیونکہ ہمارے آفس میں‌ایک لمبی ویٹنگ لسٹ ہے۔ اس کیس کو میں‌نے ارجنٹ کے طور پر دیکھنے کی حامی بھری۔ جب یہ صاحب آئے تو میں‌ نے ان سے پوچھا کہ کیا انہوں‌نے ذیابیطس کی کلاس لی ہے کیونکہ زیابیطس کی کلاس لینا تمام مریضوں‌ کے لئیے زیابیطس کا علاج کرنے کا نہایت اہم حصہ ہے۔ انہوں‌نے کہا کہ ‌زیابیطس کی کلاس تو نہیں‌لی لیکن آپ کی کتاب پڑھی تھی۔ یہ سن کر میں‌نے ایک لمحے کو خوشی محسوس کی لیکن وہ دوسرے لمحے میں‌ہی کافور ہو گئی کیونکہ ان کی زیابیطس کا کنٹرول واقعی بگڑا ہوا تھا۔ میں‌نے سوچا کہ شائد کتاب اچھی نہیں‌لکھی اس لئیے اس کو پڑھنے سے لوگوں کا فائدہ نہیں‌ہو رہا۔
میں ایک اینڈوکرنالوجسٹ ہوں ۔ یہ فیلڈ ابھی زیادہ عام نہیں ہوئی ہے۔ کچھ لوگوں کا یہ خیال ہےکہ اس شعبے کی کوئی خاص ضروورت یا اہمیت نہیں ہے۔ امید ہے کہ قارئین اپنے خیالات پر نظر ثانی کریں گے۔ ایندوکرینالوجی ہارمون سے سے متعلق بیماریوں کی تعلیم کو کہتے ہیں۔ ہارمون ایسے کیمیائی اجزاء ہیں‌جو جسم کے ایک حصے سے نکل کر دوسرے حصوں‌پر اپنا اثر ڈالتے ہیں۔ ذیابیطس چونکہ انسولین کے نظام میں‌ خرابی کے باعث ہو جاتی ہے اور دنیا میں‌ اس کے لاکھوں‌مریض موجود ہیں‌ یہ ہماری پریکٹس کا بڑا حصہ ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے اندازے کے مطابق دنیا میں‌ 350 ملین افراد کو زیابیطس کا مرض لاحق ہے۔ جنوبی ایشیاء میں‌ ایک بڑی تعداد ایسے افراد کی ہے جن کو یہ بیماری ہے اور وہ اس سے لاعلم ہیں۔ ذیابیطس کی بیماری کئی پیچیدگیوں کا سبب ہونے کی وجہ سے نہ صرف لوگوں کی صحت اور خوشگوار زندگی کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہے بلکہ ملک کی معیشت پر بھی منفی اثر ڈاتی ہے۔
شروع کی سطوحات میں‌زیابیطس کی کوئی علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔ ہم نے بچپن میں‌ یہی دیکھا کہ جب کوئی شدید بیمار ہوجائے تبھی ڈاکٹر کو دکھانے جاتے تھے۔ ہر سال چیک اپ اور روٹین لیب کرانے کا اتنا زیادہ رجحان نہیں‌ پایا جاتا۔
ایک مرتبہ ہمارے ایک کزن سے بات ہورہی تھی انہوں‌ نےکہا کہ ہر مہینے مجھے فارمیسی والے کال کرتے ہیں کہ آکر اپنی دوا گلوکوفاج لے جائیں‌ مگر میں‌ نہیں‌ جاتا ہوں۔ دوائی لینا شروع کی تو بیماری بڑھتی جائے گی۔ میں‌ نے ان کو سمجھایا کہ آپ ایسا مت کریں۔ اپنی شوگر کو نارمل لیول میں‌رکھیں‌تاکہ اپنے آپ کو زیابیطس کی پیچیدگیوں‌سے بچا سکیں۔
ذیابیطس کے بارے میں اردو میں کتاب لکھنے کا خیال میرے ذہن میں اسی لیے آیا کیونکہ ہماری فیملی میں کئی لوگوں کو ذیابیطس ہو گئی اور ان سے بات چیت کے دوران میں‌نے یہ محسوس کیا کہ تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود اکثر لوگ ذیابیطس کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں رکھتے اور یہ بھی کہ ان کے ذہن میں اس بیماری کے متعلق کچھ غلط تصورات بیٹھے ہوئے ہیں جن کی وجہ سے علاج میں‌ رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔

زیابیطس کے بارے میں‌ معلومات پچھلی دہائیوں‌میں‌ کافی تیزی سے بڑھی ہے اور اس کی کافی ساری نئی دوائیں‌ نکل آئی ہیں۔ اپنی معلومات میں‌ اضافہ کرنے کے علاوہ میں‌نے یہ بھی سمجھنے کی کوشش کی ہے کہ ان معلومات کو آسان کرکے مریضوں‌ تک کیسے پہنچایا جائے۔ ویسے تو ہر مریض کے لیے اس کی بیماری کو مجھنا ضروری ہے لیکن یہ بات ذیابیطس کے مریضوں کے لیے اور بھی اہم اس لیے ہے کیونکہ ذیابیطس کے علاج کی کامیابی ایک ٹیم ورک کے زریعے ہی ممکن ہے جس کا سب سے اہم ممبر مریض خود ہے۔

امریکہ میں جنوبی ایشائی افراد کی ایک بڑی تعداد موجود ہے لیکن چونکہ وہ آبادی کا صرف ایک فیصد ہیں‌ اس لئیے ان کی زیابیطس کے مختلف ہونے کے بارے میں‌ زیادہ تر ڈاکٹرز نہیں‌جانتے ہیں۔ کتابیں انگریزی میں ہیں اور خاص طور سے ان لوگوں‌کو ذہن میں رکھ کر نہیں لکھی گئی ہیں۔ انڈیا، پاکستان، انگلینڈ اور امریکہ جہاں‌ بھی ہمارے اپنے رشتہ دار بستے ہیں‌ ان کو زاتی طور پر دیکھ کر میں‌ کہہ سکتی ہوں‌ کہ کچھ ذیابیطس کی وجہ سے کم عمری میں انتقال کرگئے اور کچھ کواس کی پیچیدگیاں لاحق ہو گئی ہیں۔

ہماری امی بھی زیادہ تر لوگوں‌کی امیوں‌کی طرح وزن میں‌ زیادہ ہیں۔ ان کی جنیریشن میں‌ جاب کرنے کا، بچے محدود کرنے اور اپنی صحت کا خیال کرنے کا زیادہ رجحان نہیں‌ تھا۔ جب میں‌ فیلوشپ کر رہی تھی تو ہم لوگ گلوکومیٹر استعمال کرنا سیکھ رہے تھے۔ میرے پاس بیگ میں‌ ایک گلوکومیٹر تھا۔ میری ایک چھوٹی بہن سائکاٹرسٹ ہے اور دوسری نرس ہے۔ ہم سب اس کے گھر میں‌ تھے تو سب کی بلڈ شوگر چیک کی۔ امی کی بلڈ شوگر 325 ملی گرام فی ڈیسی لیٹر آئی۔ میں‌ نے ان سے کہا کہ اپنی دوا کا ڈبا دکھائیں۔ اس میں‌ تین دوائیں‌تھیں ایک بلڈ پریشر کی، دوسری ایسپرن اور تیسری اب مجھے یاد نہیں۔ بہرحال ان میں‌شوگر کی کوئی دوا نہیں‌تھی۔ آپ کے ڈاکٹر کیا کہتے ہیں‌آپ کی شوگر کے بارے میں ہم لوگوں‌نے ان سے پوچھا تو وہ بولیں‌کہ مجھے کہا تھا کہ آپ کی شوگر کچھ زیادہ ہے اور کھانے پینے میں‌ احتیاط کریں۔ میں‌نے ان کو دوائیں‌ لکھ دیں‌ اور یہی کہا کہ اپنے ڈاکٹر کو دکھاتی
رہیں۔
اگر آپ خود ڈاکٹر ہوں‌ تو اپنی فیملی کی میڈیکل پرابلمز پر نظر رکھنا تو ٹھیک ہے لیکن ان کا ڈاکٹر بننے کی کوشش نہیں‌ کرنی چاہئیے کیونکہ اگر ان کو کینسر یا کچھ سنجیدہ بیماری ہوگی تو ہو سکتا ہے کہ آپ کو دکھائی نہ دے کیونکہ ایک ڈاکٹر مشین یا روبوٹ نہیں‌ہوتا ہے بلکہ ایک انسان ہوتا ہے اور کوئی بھی نہیں چاہتا کہ اس کے پیاروں‌کو کوئی بیماری یا مسئلہ ہو۔ جو چیز ہم دیکھنا نہیں‌ چاہتے ہوں‌وہ سامنے ہوتے ہوئے بھی دکھائی نہیں دیتی اور جس چیز کو ہمارا دماغ نہیں‌ جانتا ہو اس کو ہماری آنکھیں‌نہیں‌دیکھ سکتی ہیں۔
مجھے سال میں‌ تین ہفتہ چھٹی ملتی ہے۔ جمعے کو کلینک ختم کرکے میں‌ اپنے بچوں‌کے ساتھ مال گئی۔ ہم لوگ وہاں‌گھوم پھر کر شاپنگ کررہے تھے تو میری ایک کولیگ کا فون آیا۔ اس نے کہا کہ اس غلط وقت ڈسٹرب کرنے کی معزرت لیکن میری امی یہاں‌ کچھ دنوں‌کے لئیے میرے گھر آئی ہوئی ہیں ان کو ایک دم اچانک گردن میں‌ تکلیف ہو گئی ہے اور تھائرائڈ پھول گیا ہے۔ میں‌ سن کر سمجھ گئی کہ ان کو سسٹ بن گیا ہے جس کو ڈرین کرنا پڑے گا۔ ایسے دو تین لوگ میں‌پہلے بھی دیکھ چکی ہوں۔ اگر لوگ خون پتلا کرنے والی دوا لے رہے ہوں‌ یا ان کو الٹیاں‌لگی ہوں‌تو کبھی کبھار تھائرائڈ کی چھوٹی خون کی نالیاں‌پھٹ جاتی ہیں‌ اور خون کا ایک غبارہ سا بن جاتا ہے۔ اگر چھوٹا سا ہو تو پرابلم نہیں‌ہوتی لیکن اگر بڑا ہو تو تکلیف بھی ہوسکتی ہے اور نگلنے اور سانس لینے میں‌ مشکل بھی۔ کل اور پرسوں‌تو چھٹی ہے اور اگلے ہفتے ہم لوگ شہر سے باہر ہوں‌گے۔ اپنی امی کو لے آؤ۔ رات ہو چکی تھی اور سارا سینٹر بند ہوگیا تھا لیکن میرے پاس بلڈنگ کی چابی ہے، اندر گئے، الٹراساؤنڈ مشین سے تھائرائڈ چیک گیا، دستانے چڑھا کر گردن سن کرکے سوئی اور سرنج سے سسٹ ڈرین کردیا۔ ویک اینڈ پر ان کا درد بالکل ٹھیک ہوگیا۔ اس کہانی سے ثابت ہوتا ہے کہ امی کو صحت مند اور زندہ رکھنا تقریبا” تمام بچوں‌کا ایجنڈا ہوتا ہے بلکل ویسے ہی جیسے بچوں‌کو زندہ اور صحت مند رکھنا امیوں‌کا۔ اس واقعے کا زکر اس لئیے کیا کہ امیوں‌کو اپنے سب بچوں‌میں‌انویسٹ کرنے کی ضرورت ہے۔ بچوں‌کو برابر کے مواقع فراہم ہونے چاہئیں‌ اور وہ ان کی لیاقت کی بنیاد پر ہونے چاہئیں نہ کہ جنس کی بنیاد پر۔ کیا ضرورت پڑی ہے کہ بیٹی کو بیٹے کی ماسی بنا دیں۔ وہ تمام زندگی ماسی ہی بنی رہے گی اور بیٹا معمولی کاموں‌کے لئیے دوسروں‌ پر بوجھ ۔ اگر آپ ان کو تعلیم یافتہ اور طاقت ور بنائیں‌ گی تو کل آپ کا اپنا بھی فائدہ ہونے والا ہے۔ بالکل ویسے ہی جیسے کوئی درخت لگاتا ہے اور پھر اس کی چھاؤں‌میں‌بیٹھ سکتا ہے۔
اگر اس مضمون کو کوئی اور امریکی ڈاکٹر پڑھ رہے ہوں‌تو ان کو معلوم ہو گا کہ ہر چیز ایک نظام کے ساتھ ہوتی ہے۔ مریض پہلے اپوائنٹمنٹ بناتے ہیں، پھر ان کا پیپر ورک ہوتا ہے اور میڈیکل چارٹ بنتا ہے جس میں‌ ہر بات ریکارڈ کی جاتی ہے اور یہ ایک لیگل ڈاکومینٹ ہوتی ہے۔ یہ کولیگ خود بھی ڈاکٹر تھیں اور انہوں‌ نے اپنے اثر و رسوخ اور معلومات سے کام لے کر اپنی فیملی کی مدد کی۔ ان کی جگہ اور کوئی ہوتا تو یا تو گھر میں‌ بیٹھے ہی تکلیف برداشت کرنی ہوتی یا پھر ایمرجنسی روم جاتے جہاں‌ سے ہزاروں‌ڈالر کا بل بن جاتا۔

‌ہم لوگ جب امریکہ شفٹ ہوئے تو اس زمانے میں‌ یہ سارے سیل فون، نیویگیشن سسٹم، انٹرنیٹ اور انٹرنیشنل ٹی وی وغیرہ نہیں‌ہوتے تھے۔ اس وقت ملک سے نکلتے ہی آپ واقعی ملک سے نکل جاتے تھے۔ جب میں‌ نے ایک کاپی اور پینسل اٹھائی اور اردو میں‌ لکھنا شروع کیا تو میں‌ دو جملے تک نہیں لکھ پارہی تھی۔ 20 سال اوکلاہوما میں‌ رہ کر ہم اپنی مادری زبان ہی بھول جائیں‌گے ایسا کبھی نہیں‌ سوچا تھا۔ پھر میں‌ نے بی بی سی کی اردو خبریں روز پڑھ کر اردو دوبارہ سیکھی۔ کتاب لکھنے کے دوران نزیر نے بہت مدد کی۔ لکھتے لکھتے میں‌ سر اٹھا کر کہتی اس لفظ کو اردو میں‌ کیا کہتے ہیں‌ تو وہ بتا دیتے تھے۔ ایک اکیلا اور دو گیارہ ہوتے ہیں۔ جب کتاب لکھی تو اس کو امی کو، ماموں‌کو، اپنے ساتھ فیلوشپ کرتے ہوئے ڈاکٹر خان کو اور ڈاکٹر فردوس کو پڑھنے کے لئیے دی۔ ڈاکٹر فردوس سے اوکلاہوما سٹی کے وی اے ہسپتال کے ایمرجنسی روم میں‌ملاقات ہوئی۔ یہ وہ ڈاکٹر فردوس ہیں‌ جن کی چھوٹی کتاب سارے میڈیکل اسٹوڈنٹس امتحان سے پہلے پڑھ رہے ہوتے تھے۔ ان سب نے اچھے مشورے دئیے جن کی مدد سے میں‌نے اس کتاب کو بہتر بنایا۔ اگر ارادہ پکا ہو تو آپ مشکل سے مشکل کام بھی کرسکتے ہیں۔ اس لئیےارادہ کریں‌ کہ بیمار پڑنے کا انتظار کرنے سے پہلے، ٹانگ، آنکھیں‌ اور گردے گنوانے اور دل کا دورہ پڑنے سے پہلے اپنا چیک اپ کرائیں۔
امی کو تقریبا” سات سال پہلے شوگر اور کولیسٹرول کی دوائیوں‌ پر اسٹارٹ کیا تھا۔ چونکہ ہمارے کلینک میں‌ گلوکومیٹر، ٹیسٹ اسٹرپ اور مختلف دوائیوں‌ کے فری سیمپل ہوتے ہیں‌ اس لئیے جو بھی دوا اگر انشورنس نے کور نہیں‌کی تو ہم ڈرگ ریپ سے وہ سیمپل لے کر امی کو بھیج دیتے تھے۔ اس دوران جب بھی ملتے تو میں‌ پوچھ لیتی کہ آپ نے شوگر چیک کی یا نہیں‌ اور دوا لے لی یا نہیں۔ ان کو یہی مشورہ دیا کہ اپنے ڈاکٹر کو دکھاتی رہیں۔ حال ہی میں‌ بلڈ پریشر، اے ون سی، کولیسٹرول سب اتنا پرفیکٹ تھا کہ میں‌ دیکھ کر خوش ہوگئی۔ ابھی تک ان کو کوئی پیچیدگیاں‌نہیں‌ہوئیں۔
لبنیٰ مرزا ایم ڈی

ڈاکٹر لبنیٰ‌ مرزا نے سینٹ میریز اسکول سکھر سے ہائی اسکول کیا، گورنمنٹ کالج سکھر سے پری میڈ اور چانڈکا میڈیکل کالج لاڑکانہ سے ایم بی بی ایس کیا۔ انہوں‌ نے سارے یو ایس ایم ایل ای پاس کرنے کے بعد، یونیورسٹی آف پٹسبرگ مرسی ہسپتال سے انٹرنل میڈیسن میں‌ ریزیڈنسی کی اور اس کے بعد یونیورسٹی آف اوکلاہوما سے اینڈوکرینالوجی میں‌فیلو شپ کی۔ ڈاکٹر لبنیٰ مرزا انٹرنل میڈیسن اور اینڈوکرینالوجی میں‌ امریکن بورڈ سرٹیفائڈ ہیں۔ انہوں‌ نے شوکت خانم میموریل ہسپتال میں‌ ایک سال انٹرنیٹ پر پڑھایا، ہارورڈ سے ایک سال کا انٹرنیشنل ریسرچ کورس کیا اور آج کل وہ نارمن ریجنل ہسپتال میں‌ اینڈوکرینالوجسٹ ہیں۔ وہ کومانچی مموریل ہسپتال میں‌ فیملی میڈیسن ریزیڈنٹس کو پڑھاتی ہیں‌ اور میڈیکل ریسرچ کے میدان میں‌ بھی کام کررہی ہیں۔ ڈاکٹر لبنیٰ مرزا نے زیابیطس پر اردو میں کتاب بھی لکھی ہے جس کا نام ہے “وہ سب کچھ جو آپ کو زیابیطس کے بارے میں‌ جاننے کی ضرورت ہے۔” اور ان کے آرٹیکل کئی میڈیکل جرنلز میں‌ چھپ چکے ہیں۔ وہ بلاگ بھی لکھتی ہیں۔ ڈاکٹر لبنیٰ مرزا اپنے شوہر ڈاکٹر نزیر بلوچ اور اپنے دو بچوں‌ عائشہ اور نوید کے ساتھ نارمن اوکلاہوما میں‌ رہائش پزیر ہیں۔


ٹیگز:-
مائے ڈاگ شاٹ می
Lubna Mirza نے Saturday، 16 April 2016 کو شائع کیا.

امریکہ میں‌ تین طرح‌کے ڈاکٹر پائے جاتے ہیں۔ ایم ڈی، ڈی او اور فارن میڈیکل گریجوئیٹس۔ ہمارے جیسے ڈاکٹر جو دوسرے ملکوں‌سے یہاں‌ہجرت کر کے آتے ہیں‌ ان میں‌ سے اکثر کو سڑکوں‌ پر استعمال ہونے والی زبان کا نہیں‌ پتا ہوتا کیونکہ انگریزی کتابوں‌سے سیکھی ہوتی ہے۔ ایک ہمارے ساتھ ریزیڈنسی کررہے تھے تو […]

مکمل تحریر پڑھیے »


ٹیگز:-
حیض ، انسانی تاریخ اور متھالوجی
Lubna Mirza نے Tuesday، 12 April 2016 کو شائع کیا.

یونیورسٹٰی آف اوکلاہوما میں‌ جب میں‌نے 2008 سے 2010 کے دوران اینڈوکرینالوجی میں‌ فیلوشپ کی تو مجھے ریپروڈکٹو اینڈوکرینالوجی کے اور پیڈیاٹرک اینڈوکرینالوجی کے ڈپارٹمنٹس میں‌ بھی کام کرنے اور سیکھنے کا موقع ملا۔ ایک سال کے لئیے ہفتے میں‌ ایک کانفرس میں‌ جانا پروگرام کا لازمی حصہ تھا لیکن مجھے ان کی کانفرنس اتنی […]

مکمل تحریر پڑھیے »


ٹیگز:-
چائلڈ ابیوز یا بچوں‌کا استحصال کیا ہے؟
Lubna Mirza نے Monday، 11 April 2016 کو شائع کیا.

کل فیس بک پر اقبال لطیف صاحب نے ایک وڈیو شئر کی ہوئی تھی جس میں‌ ایک آدمی ایک بوڑھی خاتون اور صاحب کو مار رہا تھا اور یہ واقعہ ریکارڈ ہو گیا۔ معلوم نہیں‌وہ کون لوگ تھے اور سارا قصہ کیا تھا لیکن وہ نہایت افسوس ناک منظر تھا جس کو دیکھ کر میں‌ […]

مکمل تحریر پڑھیے »


ٹیگز:-
Lubna Mirza نے Wednesday، 6 April 2016 کو شائع کیا.

زیابیطس ایک طویل عرصے کی بیماری ہے اور دنیا میں‌تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ دنیا کی مختلف نسلوں‌میں زیابیطس کا خطرہ ساؤتھ ایشین افراد میں‌ نسبتا” زیادہ پایا جاتا ہے جس کی وجوہات میں‌ جینیاتی ڈھانچے، لائف اسٹائل اور ماحولیاتی اثرات شامل ہیں۔ عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ دنیا کو ذیابیطس کے […]

مکمل تحریر پڑھیے »


ٹیگز:-
دنیا ایک حیرت کدہ
Lubna Mirza نے Saturday، 2 April 2016 کو شائع کیا.
زندگی سے اکتائے ہوئے لوگ
Lubna Mirza نے Saturday، 20 February 2016 کو شائع کیا.
سارے سوالوں کے سارے جواب
Lubna Mirza نے Thursday، 4 February 2016 کو شائع کیا.
شفا
Lubna Mirza نے Saturday، 30 January 2016 کو شائع کیا.
Taj Mahal and my father
Lubna Mirza نے Friday، 29 January 2016 کو شائع کیا.