ایک ہفتہ چھٹی کے بعد
Lubna Mirza نے Tuesday، 9 September 2014 کو شائع کیا.

صرف ایک ہفتہ چھٹی کے بعد واپس آئی تو ایک مریضہ واپس ہسپتال پہنچ چکی تھی اور ایک مر گئیں‌۔ اخبار میں‌چھپی ہوئی خبر سیکرٹری نے میری میز پر چھوڑ دی تھی۔ یہ خبر سن کر مجھے بہت افسوس ہوا اور حیرانی بھی کیونکہ وہ اچھی خاصی صحت مند خاتون تھی اور معلوم نہیں‌اس کو ایک دم کیا ہوا؟
پیر سے لیکر جمعے تک ہر روز صبح سے شام مریض دیکھنے ہوتے ہیں۔ ہر انسان اپنی جگہ ایک کہانی ہے اور مجھے ایک موقع ملتا ہے کہ ان لوگوں‌کی نطر سے دنیا کو دیکھا جائے۔ ہمارے مریض دنیا کے ہر ملک، نسل اور زندگی کے شعبے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ایسے لوگ بھی ہیں جو کبھی جہاز میں‌نہیں‌بیٹھے اور اوکلاہوما سے باہر نہیں‌گئے اور ایسے بھی ہیں‌جو ساؤتھ کوریا، لبنان، ایراق، افریقہ، چین اور روس سے آئے ہیں۔ میں‌نے دنیا کے ان انسانوں‌سے بہت سیکھا ہے۔ ایک انسان ایک کتاب سے زیادہ دلچسپ ہے۔ ہر انسان ایک کہانی ہے۔
ایک بار ایک خاتون آئیں‌۔ میں‌نے ان سے پوچھا آپ کیسی ہیں؟ وہ بغیر کچھ کہے مجھے دیکھتی رہیں‌۔ میں‌نے سمجھا کہ شائد وہ سن نہیں‌سکتیں‌یا پھر میرا لہجہ نہیں‌سمجھیں۔ تو میں‌نے پھر سے پوچھا کہ آپ آج کیسی ہیں؟ تو انہوں‌نے جواب دیا کہ میں‌نے اپنے بیس سالہ پوتے کو اس کے بستر میں‌ مرا ہوا پایا۔ ہم سمجھ رہے تھے کہ وہ سو رہا ہے۔ پتہ نہیں‌کس چیز کا نشہ کر کے وہ ایسا سویا کہ پھر نہیں‌اٹھا۔
ایک خاتون واپس آئیں‌تو ان کی زیابیطس کا کنٹرول بلکل بگڑا ہوا تھا۔ میں‌نے پوچھا کہ یہ ایک دم کیا ہوا جب کہ پہلے سب کچھ ٹھیک ٹھیک چل رہا تھا۔ وہ بولیں‌کہ ہاں دواؤں سے کنٹرول ٹھیک ہوگیا تو میں‌نے دوا لینا بند کی اور دعا کرنا شروع کی۔ ایسے لوگوں‌کو میں‌کچھ زیادہ نہیں کہتی۔ جو آپ کے دل میں‌آئے وہ کریں‌بس دوا لیتے رہیں۔ آپ مجھے پیسے دے رہے ہیں‌مشورہ خریدنے کے لئیے تو پھر اس مشورے پر عمل بھی کریں‌۔
ایک خاتون نے اپنے شوہر کا قصہ سنایا۔ وہ دنیا گھومنے کی خواہش رکھتے تھے۔ انہوں‌نے ریٹائر ہونے تک انتظار کیا۔ یورپ جانے کے لئیے ٹکٹ خریدے۔ ریٹائر ہونے کے ٹھیک ایک مہینے بعد ان کو اسٹروک ہوا۔ ٹور کینسل کرنا پڑا۔ اس کے ایک مہینے کے بعد وہ چل بسے۔ اور اکیلے یہ خاتون نہیں‌جانا چاہتی تھیں‌تو اس کے بعد انہوں نے خود بھی کوئی کوشش نہیں‌کی۔
ایک خاتون آئیں‌۔ انہوں‌نے کہاکہ وہ ایک دن میں‌ایک دفعہ سے زیادہ کھانا نہیں‌کھا سکتی ہیں کیونکہ وہ افورڈ نہیں‌کر سکتیں۔ یہ سن کر آپ حیران ہوں‌گے کہ امریکہ جیسے ملک میں‌بھی ایسے غریب لوگ ہیں‌جن کے پاس کھانے کو نہیں۔ شیری میری نرس نے ہمارے بریک روم میں سے بچے ہوئے سارے سینڈوچ، کریکر وغیرہ ایک بیگ میں‌باندھ کر ان خاتون کو دے دئیے کہ وہ اپنے ساتھ لے جائے۔ وہ خوشی خوشی لے گئی۔
ہر ایک دن ہم لوگ کتنے لوگوں کو دوا کے سیمپل دیتے ہیں۔ لیکن سیمپل اتنے نہیں ہوتے کہ سارے لوگوں‌کی ضرورت پوری کرسکیں۔ لوگ اپنی دوائیں‌افورڈ نہیں‌کرسکتے۔ ان لوگوں‌کو دیکھ کر اور ان کی بیماریوں‌ اور بدحالی کو دیکھ کر میں‌ ڈرتی رہتی ہوں اسی لئیے ہفتے میں‌3-4 دفعہ زومبا کی کلاس لینے جاتی ہوں۔ بس نوید اور عائشہ کالج ختم کرکے نوکری حاصل کریں‌تو میری سب سے بڑی زمہ داری ختم ہو۔ زیابیطس اور مٹاپے سے خود کو بچانا چاہئیے۔
ایک خاتون 40 سال کی عمر میں‌امریکہ آئیں‌اپنے بچوں کے ہمراہ۔ تو میں‌نے ان سے پوچھا کہ آپ کیا کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں؟ انہوں‌نے کہا کہ ہماری عمر تو گزر گئی، ہم تو اب مرنے والے ہیں، اب بس بچوں کی زندگی ہے۔ میں‌نے ان سے کہا کہ اگر آپ مر گئیں‌تو پھر کیا فکر ہے؟ فکر اس وقت کی کریں کہ جب آپ زندہ رہیں‌گی۔
جب ہم نوکری نہیں کرتے تو ہیلتھ انشورنس بھی نہیں‌ملتی۔ اور اگر عمر زرا زیادہ ہوجائے تو کوئی انشورنس کمپنی آپ کو انشور کرنا نہیں‌چاہتی کیوںکہ وہ کیوں‌اپنا نقصان کریں‌گے؟ ان کا سب سے بڑا مقصد تو پیسے کمانا ہے جو جوان اور صحت مند لوگوں‌کے ماہانہ فیس دینے اور کوئی میڈیکل کا خرچہ نہ کرنے سے وہ کمائیں‌گے۔
“آج ایک خاتون سے بات ہوئی۔ وہ 70 کی دہائی میں‌ہیں۔ کہنے لگیں کہ میں ایک مہینے میں‌شادی کررہی ہوں۔ پھر خود ہی تفصیل بتانے لگیں‌کہ میں اس بندے کو بچپن سے جانتی ہوں۔ اس کی ماں ایک بہت اچھی انسان تھی۔ اس کی بیوی کی موت ہوئی تو میں‌نے فون کرکے اس کو کہا کہ معاف کرنا میں‌نہیں‌آسکتی ہوں‌کیوںکہ میری طبعیت ٹھیک نہیں‌ہے۔ کچھ دن کے بعد وہ خود آیا میری خیریت پوچھنے۔ پھر میں‌نے اس کو فون کیا کہ تمھارا آنے کا شکریہ۔ اور اس دن کے بعد سے ہر دن ہم ایک دوسرے سے بات کرتے ہیں۔ حالانکہ میرا وزن بھی کتنا زیادہ ہے لیکن اس کو اس بات کی پروا نہیں۔ اور ایک مہینے میں‌ہم شادی کررہے ہیں۔ میں نے اس کو بتا دیا ہے کہ ابھی بھی ایک مہینہ ہے بھاگے کے لئیے۔ اب دیکھو کہ یہ شادی ہوتی ہے یا نہیں۔”
مجھے تو یہ سن کر بہت اچھا لگا۔ بوڑھے ہوجانے کا مطلب یہ نہیں‌کہ بالی وڈ موویوں‌کی طرح ماں‌باپ کو مرتا دکھائیں۔ بوڑھے لوگوں کو بھی حق ہے کہ وہ اپنی زندگی کے آخری لمحات خوشی کے ساتھ گزاریں۔ جو لوگ اپنے حصے کے کام کر چکے ہیں، بچے پال چکے ہیں ہمیں‌کوئی حق نہیں‌پہنچتا کہ ہم ان سے سفید ساڑھی میں‌ بقعیہ زندگی مالا جپتے گزارنے کی توقع کریں۔
زندگی صرف ایک دفعہ ملتی ہے۔ اس میں‌خوش رہیں‌ہر روز، آخری دن تک۔
لبنیٰ مرزا ایم ڈی


ٹیگز:-
پہلے عقل اور پھر یقین !
Lubna Mirza نے Sunday، 29 June 2014 کو شائع کیا.

ہفتے کے دن جب میری چھٹی تھی تو میں آنٹی کو بینک لے کر گئی ۔ وہاں تین خواتین کام کررہی تھیں، ایک اسسٹنٹ مینیجر اور دو ٹیلرز تھیں۔ میں نے اسسٹنٹ مینیجر کو انکل کی بنیک کی اسٹیٹمنٹ اور ان کا پاکستان سے بھیجا ہوا ڈیتھ سرٹیفکٹ دیا اور اس سے کہاکہ یہ ان [...]

مکمل تحریر پڑھیے »


ٹیگز:-
Hidden Agendas?
Lubna Mirza نے Friday، 27 June 2014 کو شائع کیا.

کل کے آخری مریض نے کہا کہ ملیریا کی دوائی اور اینٹی بایوٹک کی پرسکرپشن لکھ دیں‌۔ وہ تمہیں‌کیوں‌چاہئیے؟ امریکہ میں‌تو ملیریا نہیں ہوتا۔ کیونکہ میں افریقہ جا رہا ہوں۔ میں‌نے پوچھا کہ تم افریقہ کیوں‌جا رہے ہو تو اس نے کہا کہ افریقہ میں ہم ایک اسکول بنا رہے ہیں‌جو اس گاؤں‌کے بچوں‌کو پہلی [...]

مکمل تحریر پڑھیے »


ٹیگز:-
Diabetes education website
Lubna Mirza نے Tuesday، 24 June 2014 کو شائع کیا.

It may appear easy but developing these animations and videos took a lot of time, work and team effort. Hope you will find these helpful. LM   http://animateddiabetespatient.com/en/home.aspx    

مکمل تحریر پڑھیے »


ٹیگز:-
Lesson for today
Lubna Mirza نے Wednesday، 4 June 2014 کو شائع کیا.

“No one living or historic has answers to the future, they only have clues.” LM

مکمل تحریر پڑھیے »


ٹیگز:-
عزت نفس
Lubna Mirza نے Wednesday، 4 June 2014 کو شائع کیا.
جینے دو!
Lubna Mirza نے Sunday، 1 June 2014 کو شائع کیا.
?How to kill a 100 heads dragon
Lubna Mirza نے Tuesday، 20 May 2014 کو شائع کیا.
Happy Mother’s Day!
Lubna Mirza نے Sunday، 11 May 2014 کو شائع کیا.
بہتی گنگا
Lubna Mirza نے Wednesday، 7 May 2014 کو شائع کیا.