نوید، نانی کی ذیابیطس اور جال میں پھنسی چڑیا
Lubna Mirza نے Sunday، 26 June 2016 کو شائع کیا.

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک شہر میں ایک لڑکا رہتا تھا جس کا نام تھا نوید۔ نوید کی ایک چھوٹی بہن تھی اور وہ اپنے امی ابو کے ساتھ رہتے تھے۔

نوید کی نانی کو زیابیطس ہوگئی تھی اور وہ روزانہ اپنی دوا باقاعدگی سے لیتی تھیں۔ نوید نے دیکھا کہ وہ ہر صبح‌ ایک انجیکشن لگاتی تھیں‌ جس کا نام تھا وکٹوزا اور رات میں‌ ایک گولی کھاتی تھیں جس کا نام تھا گلوکوفاج۔

دوا لینے سے نانی کی شوگر نارمل رہتی۔ نوید کے ابو کا خیال تھا کہ جب نانی کی شوگر ٹھیک ہوتی ہے تو ان کا موڈ بھی اچھا ہوتا ہے۔ ایک دفعہ کیا ہوا کہ نانی خواہ مخواہ ناراض ہوگئیں، ان کو شدید غصہ آیا ہوا تھا اور پسینے بہہ رہے تھے۔ ان لوگوں‌ نے نانی کی بلڈ شوگر چیک کی تو وہ صرف 55 ملی گرام فی ڈیسی لٹر آئی۔ یہ دیکھ کر ابو نے نانی کو ایک کپ اورنج جوس پلایا اور ان سے کہا کہ آپ لنچ کرلیں۔ لنچ کرنے کے بعد نانی بالکل خوش خوش نظر آنے لگیں‌ اور بولیں‌ بیٹا امیتابھ بچن کی مووی تو لگا دو۔

نوید کو معلوم تھا کہ نانی کی دواؤں‌ سے دور رہنا چاہئیے کیونکہ اگر چھوٹے بچے یہ دوائیں‌ کھالیں‌ تو ان کی طبعیت بگڑ سکتی ہے۔ نانی کو زیابیطس ہونے کی وجہ سے سب کو معلوم تھا کہ ان کے خاندان میں‌ یہ بیماری ہے اور سب لوگ اس کے خطرے میں‌ ہیں۔ اس لئیے نوید اپنی امی کے ساتھ روزانہ گھر کے سامنے والی جھیل کے گرد 3 یا 4 چکر لگاتا تھا۔ وہ کبھی آہستہ آہستہ چلتے اور کبھی ریس بھی لگاتے۔ پہلے امی جیت جاتی تھیں‌ کیونکہ نوید چھوٹا تھا لیکن جب وہ تھوڑا بڑا ہوگیا اور اپنی naveedامی سے اس کا قد زیادہ ہوگیا تو پھر اس نے اپنی امی کو ریس میں‌ ہرانا شروع کیا۔ لیکن اس کی امی کو برا نہیں‌ لگتا تھا وہ ہنسنے لگتیں‌ کہ نوید نے ان کو ہرا دیا۔

نوید نے جب دیکھا کہ امی کا قد تو اس سے چھوٹا رہ گیا ہے تو ایک دن اس کو شرارت سوجھی، اس نے ایک بازو گردن کے پیچھے اور ایک گھٹنوں‌ کے پیچھے رکھا اور امی کو گود میں‌ اٹھا لیا جیسے وہ اس کو اٹھاتی تھیں۔ امی چلانے لگیں‌، نوید مجھے نیچے رکھ دو میں‌ گر جاؤں‌ گی۔ نوید نے امی کو دو تین مرتبہ گھمایا اور زمین پر کھڑا کر دیا اور ہنستے ہوئے بھاگ گیا اس سے پہلے کہ امی اس کو پکڑ لیتیں۔

نوید اپنی صحت پر دھیان دیتا تھا، وہ صرف پانی پیتا تھا اور زیادہ میٹھی چیزیں کھانے سے احتیاط کرتا تھا۔ اس کے پاس وزن کرنے والی مشین تھی اور وہ باقاعدگی سے اپنا وزن چیک کرتا تھا۔ اس کو معلوم تھا کہ بچپن سے ہی اچھی عادتیں‌ اختیار کرنے سے آگے چل کر وہ اپنی نانی کی طرح‌ زیابیطس ہونے سے خود کو بچا سکے گا۔ نوید اپنے دوستوں‌ کے ساتھ باسکٹ بال کھیلتا تھا اور اپنی چھوٹی بہن اور ابو کے ساتھ ہفتے میں‌ تین بار باکسنگ کرنے بھی جاتا تھا۔

ایک دن کیا ہوا کہ نوید اور اس کی امی جھیل کے گرد چکر لگا رہے تھے۔ وہاں‌ کچھ کچھوئے کنارے پر دھوپ کھا رہے تھے اور جیسے ہی ان کو آتے دیکھتے تو پانی میں‌ ڈبکی مار دیتے۔ نوید نے دیکھا کہ کنارے پر ایک چڑیا مچھلی پکڑنے والے جال میں‌ پھنسی ہوئی پھڑپھڑا رہی ہے۔ نوید اور اس کی امی نے دیکھا کہ اس پر چونٹیاں‌ بھی چڑھنا شروع ہوگئی ہیں۔ انہوں‌ نے چڑیا پر سے چونٹیوں‌ کو ہٹایا اور اس کو جال میں‌ سے نکالنے کی کوشش کی لیکن وہ دونوں‌ پنجوں‌ اور پروں‌ کے درمیان بری sparrow034176طرح‌ جکڑ گیا تھا۔ نوید کی امی نے کہا کہ بیٹا گھر سے قینچی لے آؤ۔ نوید بھاگا بھاگا گیا اور گھر میں‌ سے پتلی قینچی لے آیا۔ پھر اس نے ایک پتے میں‌ جھیل میں‌ سے پانی لیکر چڑیا کو تھوڑا سا پلایا۔ چڑیا کو نوید کی امی نے ہتھیلی میں‌ لیا ۔ چڑیا نے ہلنا جلنا بند کردیا تھا جیسے وہ سمجھ گئی ہو کہ میری مدد کی جارہی ہے۔ نوید نے احتیاط سے چڑیا کے پروں‌ کو بچاتے ہوئے مچھلی پکڑنے والے جالے کو کاٹنا شروع کیا۔ انہوں‌ نے جال کو چڑیا سے الگ کرکے پلاسٹک ری سائکل کوڑے میں‌ پھینک دیا۔

نوید کو احساس تھا کہ پلاسٹک کا کوڑا دنیا میں‌ تیزی سے بڑھ رہا ہے جس سے دنیا میں‌ رہنے والے زمینی، ہوائی اور آبی جانوروں‌ کی زندگی پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ اس لئیے انسانوں‌ پر ایک بڑی زمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ماحولیات پر توجہ دیں۔ اسی لئیے وہ سب پلاسٹک کی چیزیں جیسا کہ شیمپو کی خالی بوتلیں‌ یا پانی کی خالی بوتلیں ری سائکل والے ڈبے میں‌ ڈالتا تھا تاکہ ان کو پگھلا کر دوبارہ استعمال کیا جاسکے اور وہ سمندروں‌ تک نہ پہنچیں جہاں‌ مچھلیاں‌ یہ پلاسٹک کا کوڑا کھا رہی ہیں۔ اس کو معلوم تھا کہ پھر یہی مچھلیاں‌ ہماری پلیٹ میں‌ پہنچ جاتی ہیں۔

پھر انہوں نے چڑیا کو واپس زمین پر رکھ دیا۔ چڑیا پہلے دو تین بار پھدکی جیسے اپنے پروں‌ کی طاقت چیک کر رہی ہو پھر اس نے ہوا میں‌ غوطہ لگایا اور سامنے والے مکان پر سے اڑ کر وسیع نیلے آسمان میں‌ غائب ہوگئی۔


ٹیگز:-
امیگرینٹ خواتین میں‌ گھریلو تشدد
Lubna Mirza نے Monday، 9 May 2016 کو شائع کیا.

امیگرینٹ خواتین میں‌ گھریلو تشدد مقامی خواتین کے مقابلے میں‌ ایک زیادہ مشکل صورت حال ہے کیونکہ ان کو کئی تہزیبی اور قانونی بندشوں‌ کا سامنا ہوتا ہے۔ کچھ لوگوں‌ کے رسم ورواج اور اعتقاد گھریلو تشدد کا جواز پیش کرکے اس کو جائز قرار دیتے ہیں اور کچھ ان کی موجودگی سے منکر ہوتے […]

مکمل تحریر پڑھیے »


ٹیگز:-
امی کو زندہ اور صحت مند رکھو
Lubna Mirza نے Saturday، 23 April 2016 کو شائع کیا.

پچھلے سال جب ہم سارے بہن بھائی انڈیا جارہے تھے تو یہی پلان بنایا کہ ہمیں‌ سب کو الگ الگ جانا چاہئیے۔ اگر جہاز کریش ہوگیا اور پانچوں‌اکھٹے مر گئے تو امی اکیلی ہوجائیں‌گی۔ ان کو بہت غصہ آئے گا کہ پہلے ابا چھوٹے بچے چھوڑ کر چل بسے پھر یہ بچے اتنی مشکل سے […]

مکمل تحریر پڑھیے »


ٹیگز:-
مائے ڈاگ شاٹ می
Lubna Mirza نے Saturday، 16 April 2016 کو شائع کیا.

امریکہ میں‌ تین طرح‌کے ڈاکٹر پائے جاتے ہیں۔ ایم ڈی، ڈی او اور فارن میڈیکل گریجوئیٹس۔ ہمارے جیسے ڈاکٹر جو دوسرے ملکوں‌سے یہاں‌ہجرت کر کے آتے ہیں‌ ان میں‌ سے اکثر کو سڑکوں‌ پر استعمال ہونے والی زبان کا نہیں‌ پتا ہوتا کیونکہ انگریزی کتابوں‌سے سیکھی ہوتی ہے۔ ایک ہمارے ساتھ ریزیڈنسی کررہے تھے تو […]

مکمل تحریر پڑھیے »


ٹیگز:-
حیض ، انسانی تاریخ اور متھالوجی
Lubna Mirza نے Tuesday، 12 April 2016 کو شائع کیا.

یونیورسٹٰی آف اوکلاہوما میں‌ جب میں‌نے 2008 سے 2010 کے دوران اینڈوکرینالوجی میں‌ فیلوشپ کی تو مجھے ریپروڈکٹو اینڈوکرینالوجی کے اور پیڈیاٹرک اینڈوکرینالوجی کے ڈپارٹمنٹس میں‌ بھی کام کرنے اور سیکھنے کا موقع ملا۔ ایک سال کے لئیے ہفتے میں‌ ایک کانفرس میں‌ جانا پروگرام کا لازمی حصہ تھا لیکن مجھے ان کی کانفرنس اتنی […]

مکمل تحریر پڑھیے »


ٹیگز:-
چائلڈ ابیوز یا بچوں‌کا استحصال کیا ہے؟
Lubna Mirza نے Monday، 11 April 2016 کو شائع کیا.
Lubna Mirza نے Wednesday، 6 April 2016 کو شائع کیا.
دنیا ایک حیرت کدہ
Lubna Mirza نے Saturday، 2 April 2016 کو شائع کیا.
زندگی سے اکتائے ہوئے لوگ
Lubna Mirza نے Saturday، 20 February 2016 کو شائع کیا.
سارے سوالوں کے سارے جواب
Lubna Mirza نے Thursday، 4 February 2016 کو شائع کیا.