وقت ہمیشہ ایک سا نہیں‌رہتا
Lubna Mirza نے Tuesday، 7 April 2015 کو شائع کیا.

کبھی کبھار آپ کسی سے ایسی بات سنتے ہیں‌جو سالوں تک یاد رہ جاتی ہے۔ ایک مرتبہ وی اے ہسپتال میں‌جب میں‌ اینڈوکرائن میں فیلوشپ کررہی تھی تو ایک خاتون کو دیکھا، وہ تھائرائڈ کے ٹیومر کی بایوپسی کروانے آئی تھیں۔ کہنے لگیں‌کہ جیسے جیسے انسان کی عمر زیادہ ہوتی جاتی ہے تو زندگی ہمیں‌ چیزیں‌دینا کم کرتی جاتی ہے اور چیزیں واپس لینا شروع کرتی ہے۔ یہ انسانی المیہ ہے اور اس سے نبٹنے کے لئیے دنیا کے مختلف لوگوں‌نے مختلف جوابات تصور کئیے ہوئے ہیں۔
وقت ہمیشہ ایک سا نہیں‌رہتا۔ کل واپس نہیں‌آسکتا۔ ہم کل کو آج نہیں‌جی سکتے ہیں۔ ہر دن ایک نیا دن ہوتا ہے جو نئے سوال لاتا ہے اور ان سوالوں‌کے لئیے نئے جواب ڈھونڈنے ہوتے ہیں۔ ایک مریضہ کو دیکھا وہ بولیں‌مجھے 25 سال پہلے میرے ڈاکٹر نے کہا تھا کہ نیچرل تھائرائڈ لیتے رہنا اور کوئی کتنا کہے کبھی بھی جنیرک فیکٹری کی بنی ہوئی دوائی مت کھانا۔ اب ان 25 سالوں کے دوران کافی بڑی ریسرچ ہو چکی ہیں۔ اب ہمیں‌ڈیٹا کے ساتھ اچھی طرح‌معلوم ہوچکا ہے کہ جانوروں میں‌سے نکالے ہوئے تھائرائڈ کی گولیاں‌ کھانا صحت کے لئیے نقصان دہ ہے۔ ہو سکتا ہے کہ 25 سال پہلے ان ڈاکٹر صاحب نے خلوص سے آپ کو مشورہ دیا ہو لیکن وہ اس وقت کی معلومات کے مطابق درست تھا۔
وہ آج غلط ہے۔ لیکن ایک مرتبہ لوگوں‌کے زہن میں‌ ایک نقطہ بیٹھ جائے جو اس کو نکالنا نہایت مشکل ہوتا ہے۔ تبدیلی ایک آسان کام نہیں ہے۔ جمود آسان ہوتا ہے۔ پھر اس ڈاکٹر کا کہا ہوا اس کے لئیے ایک لحاظ سے ایک بزرگانہ سی نصیحت بن گیا جس کی یاد اس کے ماضی کا حصہ بن گئی جس سے وہ تعلق نہیں‌توڑ سکتی تھی۔ اسی لئیے کہا جاتا ہے کہ بوڑھے پروفیسر تبدیل نہیں‌ہوتے بوڑھے پروفیسر مر جاتے ہیں۔ اگر 10 افراد سے کہا جائے کہ آپ بدل جائیں ورنہ آپ کو جان سے مار دیا جائے گا تو ان میں‌سے صرف ایک انسان بدلے گا۔ تبدیلی لانا اس قدر مشکل کام ہے۔
ایک بار مجھے ہسپتال میں‌ایک مریضہ کے لئیے کانسلٹ کیا گیا۔ وہ اب مر چکی ہیں‌لیکن جب میں‌ان کو دیکھنے گئی تو وہ کمپیوٹر پر کلاس لے رہی تھیں۔ کہنے لگیں‌کہ پچھلے کئی سال سے میں‌سخت بیمار ہوں‌اور جاب نہیں‌کرسکتی ہوں۔ میری تعلیم ادھوری رہ گئی تھی اور میری بڑی خواہش تھی کہ کالج کی ڈگری مکمل کرسکوں‌تو اب میں اپنے فارغ وقت میں‌ یہ آن لائن کلاسیں‌لیتی ہوں۔ مجھے یہ لگتا ہے کہ اس کا خود کو اپنے آپ کو اسی طرح‌ زہنی طور پر مصروف رکھنا ہی تھا جس کی وجہ سے وہ اتنا عرصہ زندہ رہی۔ اگر ہاتھ پیر چھوڑ دئیے ہوتے تو کئی سال پہلے ہی دنیا سے گزر گئی ہوتی۔ اس کا چھوٹا بیٹا 18 سال کا ہے۔ ٹین ایج ہر بچے کی زندگی میں‌ایک مشکل وقت ہوتا ہے اور اچھا ہوا کہ وہ اس وقت میں‌ جتنا ہوسکا اس کے لئیے دنیا میں موجود رہی۔
آج ایک چھوٹے سے بالوں‌والی دبلی سی 19 سال کی لڑکی کو دیکھا جو اپنی ماں‌کے ساتھ آئی تھی۔ وہ بولی کہ میں‌ایک لڑکا ہوں اور وہ مجھے بچپن سے معلوم ہے۔ میں‌ایک جھوٹ کے ساتھ زندگی نہیں‌گزار سکتا ہوں۔ مجھے اس چہرے اور جسم سے نفرت ہے جو میرے زہن سے متضاد ہے۔ وہ اپنی جنس تبدیل کروا رہی ہے۔ میں‌نے اس کی ماں‌سے پوچھا کہ آپ کا اس بارے میں‌کیا خیال ہے تو وہ بولیں‌ میں‌اور اس کے والد ،ہم اس بات کو نہیں‌سمجھ سکتے ہیں‌ لیکن جس میں‌ہماری اولاد کی خوشی اور بہتری ہو ہم اس میں‌اس کو سپورٹ کریں‌گے۔
لبنیٰ مرزا ایم ڈی

 

 

 

 

 


ٹیگز:-
لڈو کی کہانی سب عمروں کے بچوں کے لئیے
Lubna Mirza نے Sunday، 16 November 2014 کو شائع کیا.

بہت دن پرانی بات ہے کہ ایک شہر میں ایک لڑکا رہتا تھا جس کا نام تھا نوید۔ نوید کی ایک بہن تھی اور وہ اپنے امی ابو اور دادی کے ساتھ رہتے تھے۔ ان کی دادی شہر سے باہر گئی ہوئیں تھیں۔ ایک دن کیا ہوا کہ نوید چھٹی کے دن  اپنے ایک دوست [...]

مکمل تحریر پڑھیے »


ٹیگز:-
دل کے بہلانے کو
Lubna Mirza نے Thursday، 16 October 2014 کو شائع کیا.

“ایک مرتبہ ایک خاتون واپس آئیں تو میں نے پوچھا آپ نے دوا لینا شروع کی اور وہ کیسی چل رہی ہے؟ تو انہوں‌نے کہا نہیں میں‌نے وہ دوا نہیں‌لی بلکہ یہ والی لے رہی ہوں۔ انہوں‌نے دو بوتلیں اپنے بڑے سے بیگ میں‌سے نکال کر دکھائیں۔ ان پر چائنیز میں‌کچھ لکھا ہوا تھا۔ میں‌نے [...]

مکمل تحریر پڑھیے »


ٹیگز:-
ڈاکٹر رضوی کی کہانی
Lubna Mirza نے Saturday، 20 September 2014 کو شائع کیا.

یہ ایک عظیم انسان کی کہانی ہے جنہوں‌نے مشکلات کا سامنا کیا اور اپنی تعلیم اور طاقت کو مثبت سمت میں‌استعمال کیا۔ یہ تمام باتیں‌ہر انسان اپنے دل میں‌ضرور سوچتا ہے۔ جب میں‌نے اور نذیر نے ایم بی بی ایس کمپلیٹ کیا تو ہم نے ہر جگہ جاب کے لئیے دیکھا۔ کراچی میں‌چانڈکا سے پڑھے [...]

مکمل تحریر پڑھیے »


ٹیگز:-
ایک ہفتہ چھٹی کے بعد
Lubna Mirza نے Tuesday، 9 September 2014 کو شائع کیا.

صرف ایک ہفتہ چھٹی کے بعد واپس آئی تو ایک مریضہ واپس ہسپتال پہنچ چکی تھی اور ایک مر گئیں‌۔ اخبار میں‌چھپی ہوئی خبر سیکرٹری نے میری میز پر چھوڑ دی تھی۔ یہ خبر سن کر مجھے بہت افسوس ہوا اور حیرانی بھی کیونکہ وہ اچھی خاصی صحت مند خاتون تھی اور معلوم نہیں‌اس کو [...]

مکمل تحریر پڑھیے »


ٹیگز:-
پہلے عقل اور پھر یقین !
Lubna Mirza نے Sunday، 29 June 2014 کو شائع کیا.
Hidden Agendas?
Lubna Mirza نے Friday، 27 June 2014 کو شائع کیا.
Diabetes education website
Lubna Mirza نے Tuesday، 24 June 2014 کو شائع کیا.
Lesson for today
Lubna Mirza نے Wednesday، 4 June 2014 کو شائع کیا.
عزت نفس
Lubna Mirza نے Wednesday، 4 June 2014 کو شائع کیا.