آوے کا آوا
Lubna Mirza نے Monday، 14 April 2014 کو شائع کیا.

ایک دفعہ ہم لوگ ایسے ہی بیٹھے باتیں کررہے تھے تو  ایسے ہی باتوں ہی باتوں میں کسی نے ذکر کیا کہ فلاں فلاں بزرگ تھے جن کا جسم مرنے کے اتنے سال کے بعد بھی بالکل صحیح حالت میں تھا تو ایک ڈاکٹر یعنی کہ پڑھی لکھی 30 سالہ خاتون بھی بولیں کہ جی ہاں کچھ لوگ تو ہوتے ہیں ایسے مقام پر جن کو یہ درجہ ملتا ہے۔ اس بات پر مجھے سخت حیرانی ہوئی اور میں یہ سوچے بغیر نہیں رہ سکی کہ  ایسا ممکن ہوتا ہے کہ انسانوں کے دماغ میں دو خانے بن جائیں ، ایک میں آبجیکٹو انفارمیشن ہو اور دوسرے میں بچپن میں سنے ہوئے جادوئی خیالا ت ہوں۔یہ سنی سنائی ہی کہانی ہے اور آپ اپنی زندگی میں کسی بھی ایسے شخص سے نہیں ملے ہوں گے جس نے خود کسی کی لاش کے پاس 500 سال بیٹھ کر اس بات کا مشاہدہ کیا ہوگا۔کون سے جرنل کے کس آرٹیکل میں اس کا ذکر ہے؟  مرنے کے بعد لاش کا کیا حال ہوگا وہ اس کے اردگرد کے ماحول پر مبنی ہے۔ برف میں دبے ہونے میں اور عام حالات میں  تبدیلیاں آنے میں فرق ہے اور یہ فرق ان لوگوں کے زندگی میں اعمال پر مبنی نہیں ہوتا۔ اب یہ لوگ فورینزک میڈیسن کے ماہر ہوں گے اور ان کو  شہادت دیکھ کر تجزیہ کرکے ثبوت فراہم کرنے ہوں گے ۔ان کو موت کا سبب، وقت اور حالات کا تعین کرنا ہوگا،  ان کی معلومات اور  ہدایات پر لوگوں کی زندگی اور موت کا دارومدار ہوگا تو یہ لوگ اصل دنیا میں کیا کریں گے؟ کیا وہ لوگ خیالی دنیا اور  باہر کی  اصلی دنیا میں فرق کبھی دیکھ پائیں گے ؟  ہمارے خیالات کا ہمارے عمل پر کوئی اثر پڑتا ہے کہ نہیں؟ شائد ہم ایسا دماغ لیکر  ایک بڑی مشین کے ایک چھوٹے سے پرزے ضرور بن سکتے ہوں گے  جو کلاک ان اور کلاک آوٹ کرتا ہے اور پے چیک لیکر گھر جاتا ہےلیکن شائد اس لائق کبھی نہ بن پائیں کہ خود ایک بڑی مشین بنا اور چلا سکیں۔ ڈبوں میں رہنے سے آپ سیدھے ہاتھ جائیں تو دیوار میں ٹکراتے ہیں، الٹے ہاتھ جائیں تو بھی، اور اڑ بھی نہیں سکتے کیونکہ چھت میں سر لگے گا۔ یہ سوچنے کی بات ہے کہ یہ نہ دکھائی دینے والا ڈبہ ہوتا ہے جس کی دیواریں صرف اس میں رہنے والا ہی گرا سکتا ہے۔ڈر تو ہوتا ہے کیونکہ دنیا بہت بڑی  ہے، لامحدوداور پیچیدہ ہے اور ڈبہ کوزی ہے، جانا پہچانا ہے، یہاں ڈر نہیں لگتا۔ غیر متوقع چیزیں ایک حد تک ہی پیش آئیں گی۔

لبنیٰ مرزا- ایم ڈی


ٹیگز:-
نیکی کا سلسلہ
Lubna Mirza نے Tuesday، 8 April 2014 کو شائع کیا.

آپ نے شائد یہ پہلے بھی سنا ہو کہ کسی نے مکڈونالڈ کی لائن میں یا سب وے کی لائن میں اپنے سے پیچھے آنے والوں کا بل ادا کردیا، یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ لوگ کتاب پڑھ کر کہیں بینچ وغیرہ پر چھوڑ جاتے ہیں تاکہ کسی اور کو مل جائے اور وہ [...]

مکمل تحریر پڑھیے »


ٹیگز:-
حرکت میں برکت ہے!
Lubna Mirza نے Monday، 31 March 2014 کو شائع کیا.

ایک دن ایک کسی دوسرے ملک کی خاتون مریض اپنے میاں اور دو بچوں کے ساتھ ہمارے کلینک میں آئیں۔ ان خاتون کے شوہر امریکہ کی ایک یونیورسٹی میں پڑھنے آئے تھے اور وہ خود گھر میں رہتی تھیں۔ مریضہ کی پرائویسی کا خیال کرتے ہوئے ہم انکی بیماریوں کی تفصیل میں نہیں جائیں گے [...]

مکمل تحریر پڑھیے »


ٹیگز:-
بچوں کو میڈیکل کالج کہاں بھیجیں؟
Lubna Mirza نے Friday، 21 March 2014 کو شائع کیا.

اکثر لوگ مجھ سے یہ سوال پوچھتے ہیں کہ کیا ان کو اپنے بچوں کو پاکستان میڈیکل کالج پڑھنے کے لئیے بھیجنا چاہئیے؟ آج کا پیپر اس لئیے لکھا گیا ہے تاکہ اس موضوع کے بارے میں لوگوں کی سمجھ میں اضافہ ہو۔ یہ دھیان رہے کہ یہ معلومات زاتی تجربے اور مشاہدے پر مبنی [...]

مکمل تحریر پڑھیے »


ٹیگز:-
بچے ہمارا مستقبل
Lubna Mirza نے Wednesday، 19 March 2014 کو شائع کیا.

چین میں یہ تصور عام ہے کہ جو پچھلی نسلیں گذر گئی ہیں وہ لوگوں کی حفاظت کرتی ہیں اور ان پر نظر رکھتی ہیں تاکہ مصیبتیں ان کی نئی نسلوں سے دور رہیں۔  اس بات کی تاریخ یہ ہے کہ ہزاروں سال پہلے جب لوگ بوڑھے ہوجاتے تھے تو وہ مزید کام میں حصہ [...]

مکمل تحریر پڑھیے »


ٹیگز:-
ذیابیطس اور خرافات
Lubna Mirza نے Friday، 14 March 2014 کو شائع کیا.
تعلیم یافتہ جیون ساتھی
Lubna Mirza نے Thursday، 6 March 2014 کو شائع کیا.
تبدیلی کی سطوحات
Lubna Mirza نے Wednesday، 5 March 2014 کو شائع کیا.
انسولین اور غلطیاں
Lubna Mirza نے Monday، 3 March 2014 کو شائع کیا.
اردو کی بدحالی اور غریبی
Lubna Mirza نے Wednesday، 26 February 2014 کو شائع کیا.