لڈو کی کہانی سب عمروں کے بچوں کے لئیے
Lubna Mirza نے Sunday، 16 November 2014 کو شائع کیا.

بہت دن پرانی بات ہے کہ ایک شہر میں ایک لڑکا رہتا تھا جس کا نام تھا نوید۔ نوید کی ایک بہن تھی اور وہ اپنے امی ابو اور دادی کے ساتھ رہتے تھے۔ ان کی دادی شہر سے باہر گئی ہوئیں تھیں۔ ایک دن کیا ہوا کہ نوید چھٹی کے دن  اپنے ایک دوست کے ساتھ باہر سائکل چلارہاتھا تو انہوں نے ایک ننا منا سا خرگوش دیکھا جو لان  کی گھانس کاٹنے والی مشین  کے حادثے سے چوٹ کھا کر ایک کونے میں سکڑا بیٹھا تھا۔ اس کو دیکھ کر نوید کا دل پسیج گیا۔ اس نے دونوں ہاتھوں میں اس کو اٹھایا اور اپنے گھر لے آیا۔ گھر آکر اس نے اپنی امی سے التجا کی کہ ہم اس بے بی خرگوش کو رکھ لیں۔ اس کی امی نے خرگوش کو دیکھا تو انہوں نے یہ نوٹ کیا کہ بیچارے خرگوش کے سر پر سے کھال اتری ہوئی ہے اور وہ نیم بیہوش ہے۔ وہ بولیں بیٹا  ہمارے گھر میں بلی ہے جو اس کو کھا لے گی اس لئیے آپ اس کو اس وقت تک رکھ لو جب تک اس کی صحت بہتر ہوجائے اور اس کے بعد اس کو باہر چھوڑنا ہوگا۔ نوید نے یہ بات مان لی۔ انہوں نے خرگوش کے بچے کا نام لڈو رکھا۔وہ اتوار کا دن تھا   اور پھر نوید کی امی نے اینٹی بایوٹک کے آئی ڈراپ لڈو کے سر پر ٹپکائے ، انہوں نے کارڈ بورڈ کا ایک ڈبہ لیکر اس میں نرم سا کپڑا بچھا دیا اور اس پر دو چھوٹے سے پیالوں میں پانی اور تھوڑا سا فروٹ کاٹ کر رکھ دیا۔ پھر نوید اور اس کی امی نے اس ڈبے پر ایک جیکٹ ڈال کر اس کو کونے والے کمرے میں چھپا دیا۔نوید کی امی کو زیادہ امید نہیں تھی کہ لڈو زندہ بچے گا  کیونکہ اس کی حالت ٹھیک نہیں تھی اور وہ بالکل ہل جل نہیں رہاتھا۔ نوید ہر کچھ گھنٹوں کے بعد جاکر لڈو کو چیک کرتا اور اس کو پانی پلانے کی کوشش کرتا مگر لڈو ایک کونے میں سکڑ کر بیٹھا رہا۔ کچھ پتا نہیں چل رہا تھا کہ وہ زندہ  بھی ہے کہ نہیں۔ اگلے دن پیر تھا ، نوید اسکول چلا گیا۔ واپس آیا تو اس نے پھر سے لڈو کو دیکھا۔ اس نے نوٹ کیا کہ فروٹ تھوڑا سا کم ہے اور لڈو دوسری سمت میں بیٹھا ہے۔ وہ اب بھی نہیں ہل رہا تھا لیکن یہ ظاہر ہوتا تھا کہ وہ سب کے جانے کے بعد تھوڑا بہت ہلا ہے اور اس نے کچھ کھایا بھی ہے۔ یہ دیکھ کر نوید خوش ہوا اور اس نے اپنی امی کو بتایا۔ اپنی خوشی میں اس کو یہ خیال ہی نہیں رہا کہ ڈبے پر جیکٹ واپس ڈال دے۔ منگل کے دن جب امی کام سے واپس آئیں تو انہوں نے جاکر لڈو کو چیک کیا تو یہ دیکھ کر ان کا دل دھک سے رہ گیا کہ لڈو ڈبے میں سے غائب ہے۔ اب نوید ، اس کی بہن اور اس کی امی سارے گھر میں لڈو کو تلاش کرنے لگے۔ان کو یہ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ سارے گھر میں ایک ننھے منے خرگوش کو کیسے تلاش کیا جائے۔ وہ کہاں چھپا ہوا ہو گا۔

ابو کام سے واپس آئے تو کہنے لگے کہ ٹی وی کے پیچھے کچھ ہے کیونکہ بلی بار بار وہاں جانے کی کوشش کررہی ہے۔ نوید کی امی نے نوٹ کیا کہ ایک سیکنڈ کے لئیے انہیں لڈو کی ناک باہر جھانکتی دکھائی دی۔ ان کو یقین نہیں تھا کہ لڈو ٹی وی کے پیچھے ہے لیکن پھر بھی انہوں نے سونے سے پہلے ایک پیالے میں خربوزے کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کاٹ کر ٹی وی کے پاس رکھ دئیے اور پانی بھی رکھ دیا۔ بدھ کے دن انہوں نے دیکھا کہ سارا خربوزہ غائب ہے۔ اب ان کو یقین ہوگیا کہ جب سب لوگ سو جاتے ہیں اور بلی بھی باہر نہیں ہوتی تو لڈو باہر آتا ہے اور کھا پی کر پھر سے چھپ جاتا ہے۔ اور پھر وہ سارا دن ٹی وی کے پیچھے چھپا رہتا ہے۔یہ بات متاثر کن تھی کہ جب سارے گھر میں کوئی نہیں تھا تو ایک چھوٹے سے خرگوش نے خود کو بلی سے کیسے بچایا۔ بلی بھی بہت پیاری تھی لیکن آخر بلی تھی اور بلی ایک قدرتی شکاری ہے۔  بدھ کی رات کو انہوں نے سیب کے ٹکڑے کاٹ کر لڈو کے لئیے ٹی وی کے پاس رکھ دئیے ۔  جمعرات کی صبح سارا سیب بھی غائب تھا ۔جمعرات کی رات کو نوید کی امی نے ٹماٹر کاٹ کر لڈو کے لئیے باہر رکھا۔ اب ویک اینڈ دوبارہ آیا تو نوید ، اس کی بہن اور امی ابو نے مل کر ٹی وی ہٹایا تاکہ لڈو کو باہر نکالا جاسکے۔ انہوں نے پہلے بلی کو دوسرے کمرے میں بند کردیا تھا۔ جیسے ہی ٹی وی ہٹا تو لڈو پیچھے سے نکل کر بھاگا۔  وہ دادی کے کمرے میں گھس گیا۔ نوید کی بہن نے لنچ باکس اس کے پاس پھینکا ، لڈو نے اس میں جمپ مار کر چھپنے کی کوشش کی تو نوید کی بہن نے جلدی سے اس کا ڈھکن بند کردیا۔ اس طرح لڈو پھنس گیا۔ پھر وہ لنچ باکس باہر لے کر گئے اور اس کا ڈھکن کھول دیا۔ لڈو نے باکس میں باہر کود ماری پھر اس نے اپنی ناک اٹھا کر ماحول کا جائزہ لیا پھر ایک سمت میں دنیا کواپنے بل بوتے پر دریافت کرنے نکل پڑا۔ لڈو صرف ایک ہفتے  میں کافی بڑا لگنے لگا تھا۔ لگتا تھا کہ رنگ برنگے فروٹ کھانے سے اس کی صحت  پر خوشگوار اثر پڑا ہے۔ اتوار کے دن نوید کی امی  برتن صاف کررہی تھیں اور نوید کے ابو ان کو ڈش واشر میں لگا رہے تھے تو نوید کے ابو بولے ، پتا نہیں لڈو باہر کیسا ہوگا۔ یہ سن کر نوید کی امی مسکرائیں اور بولیں ،  وہ بالکل ٹھیک  ہو گا کیونکہ لڈو ایک سروائور ہے۔

لبنیٰ مرزا- ایم ڈی


ٹیگز:-
دل کے بہلانے کو
Lubna Mirza نے Thursday، 16 October 2014 کو شائع کیا.

“ایک مرتبہ ایک خاتون واپس آئیں تو میں نے پوچھا آپ نے دوا لینا شروع کی اور وہ کیسی چل رہی ہے؟ تو انہوں‌نے کہا نہیں میں‌نے وہ دوا نہیں‌لی بلکہ یہ والی لے رہی ہوں۔ انہوں‌نے دو بوتلیں اپنے بڑے سے بیگ میں‌سے نکال کر دکھائیں۔ ان پر چائنیز میں‌کچھ لکھا ہوا تھا۔ میں‌نے [...]

مکمل تحریر پڑھیے »


ٹیگز:-
ڈاکٹر رضوی کی کہانی
Lubna Mirza نے Saturday، 20 September 2014 کو شائع کیا.

یہ ایک عظیم انسان کی کہانی ہے جنہوں‌نے مشکلات کا سامنا کیا اور اپنی تعلیم اور طاقت کو مثبت سمت میں‌استعمال کیا۔ یہ تمام باتیں‌ہر انسان اپنے دل میں‌ضرور سوچتا ہے۔ جب میں‌نے اور نذیر نے ایم بی بی ایس کمپلیٹ کیا تو ہم نے ہر جگہ جاب کے لئیے دیکھا۔ کراچی میں‌چانڈکا سے پڑھے [...]

مکمل تحریر پڑھیے »


ٹیگز:-
ایک ہفتہ چھٹی کے بعد
Lubna Mirza نے Tuesday، 9 September 2014 کو شائع کیا.

صرف ایک ہفتہ چھٹی کے بعد واپس آئی تو ایک مریضہ واپس ہسپتال پہنچ چکی تھی اور ایک مر گئیں‌۔ اخبار میں‌چھپی ہوئی خبر سیکرٹری نے میری میز پر چھوڑ دی تھی۔ یہ خبر سن کر مجھے بہت افسوس ہوا اور حیرانی بھی کیونکہ وہ اچھی خاصی صحت مند خاتون تھی اور معلوم نہیں‌اس کو [...]

مکمل تحریر پڑھیے »


ٹیگز:-
پہلے عقل اور پھر یقین !
Lubna Mirza نے Sunday، 29 June 2014 کو شائع کیا.

ہفتے کے دن جب میری چھٹی تھی تو میں آنٹی کو بینک لے کر گئی ۔ وہاں تین خواتین کام کررہی تھیں، ایک اسسٹنٹ مینیجر اور دو ٹیلرز تھیں۔ میں نے اسسٹنٹ مینیجر کو انکل کی بنیک کی اسٹیٹمنٹ اور ان کا پاکستان سے بھیجا ہوا ڈیتھ سرٹیفکٹ دیا اور اس سے کہاکہ یہ ان [...]

مکمل تحریر پڑھیے »


ٹیگز:-
Hidden Agendas?
Lubna Mirza نے Friday، 27 June 2014 کو شائع کیا.
Diabetes education website
Lubna Mirza نے Tuesday، 24 June 2014 کو شائع کیا.
Lesson for today
Lubna Mirza نے Wednesday، 4 June 2014 کو شائع کیا.
عزت نفس
Lubna Mirza نے Wednesday، 4 June 2014 کو شائع کیا.
جینے دو!
Lubna Mirza نے Sunday، 1 June 2014 کو شائع کیا.