امیگرینٹ خواتین کے لئیے ہدایات
Lubna Mirza نے Thursday، 24 April 2014 کو شائع کیا.

اگر آپ امریکہ میں باہر کے کسی ملک سے آئی ہیں اور آپ کے خلاف گھریلو تشدد یا  ریپ کیا گیا ہے تو یہاں پر آپ کی مدد کے لئیے کچھ ہدایات دی گئی ہیں۔

پہلی بات تو یہ کہ آپ مدد حاصل کرنے کی حقدار ہیں  اور آپ کے حقوق اور ان لوگوں کے حقوق میں کوئی فرق نہیں جو امریکہ میں پیدا ہوئے۔ آپ پولیس کو کال کرنے میں یا خواتین کے شیلٹر استعمال کرنے میں کوئی شرم یا جھجھک محسوس نہ کریں۔ آپ کو ان لوگوں کو اپنا امیگریشن اسٹیٹس دکھانے یا بتانے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی کیونکہ ان کی جاب ہی یہی ہے کہ وہ مشکل میں گرفتار انسانوں کی مدد کریں۔ ایسا ماضی میں ہو چکا ہے کہ کچھ لوگوں کو اس طرح ملک سے نکال دیا گیا تھا لیکن اب یہ خدمات انجام دینے والی ایجنسیاں لوگوں کے امیگریشن اسٹیٹس  کی بنیاد پر مدد فراہم نہیں کرتیں ۔ جرم کے خلاف ہر انسان کی مدد کی جاتی ہے۔

دوسری بات یہ کہ اگر آپ کو یہ کہہ کر ہراساں کیا جارہا ہے کہ بدسلوکی برداشت کرو ورنہ امیگریشن والوں سے شکایت کر کے ملک سے نکلوا دیا جائے گا تو یہ یاد رہے کہ ایسا ہونا ناممکن کے قریب ہے کیونکہ امیگریشن سروس لوگوں کی ذاتی کالز کی بنیاد پر کسی کا پیچھا کرنے نہیں آتیں۔ ان کے پاس اتنے وسائل ہی نہیں  کہ لاکھوں غیر قانونی امیگرینٹس کے پیچھے  ایک کے پیچھے ایک کی بنیاد پر بھاگ سکیں۔  یہ بھی یاد رہے کہ ایسا کرنے سے بدسلوکی کرنے والا خود کو بھی ایک خطرے میں ڈالے گا اس لئیے آپ اس بات کو سمجھیں کہ یہ ایک خالی دھمکی ہے۔ اگر آپ اپنے شوہر پر منحصر ہیں کہ وہ گرین کارڈ کے لئیے فائل کرے گا اور اگر آپ نے اسے چھوڑا تو  اس پروسس میں مشکل پیش آئے گی تو یہ معلوم رہے کہ  امریکی قانون کے تحت  گھریلو تشدد کی شکار خواتین کو حق حاصل ہے کہ وہ یہ رشتہ چھوڑ کر اپنے بل بوتے پر خود یہ قانونی کاغذات حاصل کرسکیں۔ خواتین کے شیلٹر میں کام کرنے والے لوگ آپ کی اس سلسلے میں مدد کرسکتے ہیں۔ اگر آپ خوفزدہ ہیں تو کسی  دوست سے کہیں کہ وہ آپ کی طرف سے قانونی اہل کاروں سے رابطہ کریں ۔  یہ ہوسکتا ہے کہ آپ کے دوست انتہائی کم ہوں کیونکہ  ایسے افراد جو گھریلو تشدد کرتے ہیں وہ اپنے شکار کو تنہا کرتے ہیں۔ ان کو انگریزی سیکھنے، گاڑی چلانے، نوکری کرنے یا باہر کسی سے بات کرنے سے روکتے ہیں تاکہ ان کے جرم پر پردہ پڑا رہے۔

ہر کسی کو ایسا ہی لگتا ہے کہ جیسے بری خبریں دور دراز کہیں انجانے لوگو ں کو ہی پیش آتی ہیں جو اخبار یا ٹی وی میں رہتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ کہانیاں ہمارے اپنے گھروں کی ہیں اور ہمارے چاروں طرف پھیلی ہوئی ہیں اور ان کا شکار کوئی بھی کسی بھی وقت بن سکتا ہے۔ آپ اپنے بچوں کو بھی تعلیم یافتہ کریں خاص کر لڑکیوں کو اور ان کو ان کے امریکی حقوق اور قوانین سے آگاہ کریں تاکہ وہ اپنی اور اپنی اولاد کی حفاظت کرنے کے لائق بن سکیں۔

امریکی ہپا قانون کے تحت ہم اپنے ایک مریض کی انفارمیشن دوسرے مریض یا کسی بھی اور بندے سے شئر نہیں کرسکتے ۔ اس سے ڈاکٹر کو ڈھائی لاکھ ڈالر تک کا جرمانہ ہوسکتا ہے۔ اس لئیے آپ اپنے ڈاکٹر سے پرسنل اشوز کو اس ڈر کے بغیر ڈسکس کرسکتی ہیں کہ وہ آپ کے گھر کے کسی اور  شخص کو آپ کی اجازت کے بغیر کچھ بتائیں گے۔

اگر آپ نائن ون ون کو فون کریں اور وہ آپ کی بات یا زبان نہ سمجھ سکیں تو آپ ان سے کہیں کہ ترجم کا انتظام کریں۔ دنیا کے زیادہ تر ملکوں کی زبان جاننے والے  پولیس  کی مدد کرنے کے لئیے  موجود ہوتے ہیں اور وہ آپ کی زبان سمجھنے والے لوگوں سے آپ کی بات کروا سکتے ہیں۔ آپ مدد حاصل کرنے کی کوشش کرتی رہیں  لیکن سب سے بڑی مدد تو انسان خود اپنی ہی کرسکتا ہے۔ لوگ صرف مشورہ دے سکتے ہیں۔

لبنیٰ مرزا-ایم ڈی

http://www.news9.com/story/25289526/norman-man-calls-911-claims-he-killed-someone

 

http://oklaw.org/issues/relationship-abuse/domestic-violence-1

 


ٹیگز:-
نیکی کا سلسلہ
Lubna Mirza نے Tuesday، 8 April 2014 کو شائع کیا.

آپ نے شائد یہ پہلے بھی سنا ہو کہ کسی نے مکڈونالڈ کی لائن میں یا سب وے کی لائن میں اپنے سے پیچھے آنے والوں کا بل ادا کردیا، یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ لوگ کتاب پڑھ کر کہیں بینچ وغیرہ پر چھوڑ جاتے ہیں تاکہ کسی اور کو مل جائے اور وہ [...]

مکمل تحریر پڑھیے »


ٹیگز:-
حرکت میں برکت ہے!
Lubna Mirza نے Monday، 31 March 2014 کو شائع کیا.

ایک دن ایک کسی دوسرے ملک کی خاتون مریض اپنے میاں اور دو بچوں کے ساتھ ہمارے کلینک میں آئیں۔ ان خاتون کے شوہر امریکہ کی ایک یونیورسٹی میں پڑھنے آئے تھے اور وہ خود گھر میں رہتی تھیں۔ مریضہ کی پرائویسی کا خیال کرتے ہوئے ہم انکی بیماریوں کی تفصیل میں نہیں جائیں گے [...]

مکمل تحریر پڑھیے »


ٹیگز:-
بچوں کو میڈیکل کالج کہاں بھیجیں؟
Lubna Mirza نے Friday، 21 March 2014 کو شائع کیا.

اکثر لوگ مجھ سے یہ سوال پوچھتے ہیں کہ کیا ان کو اپنے بچوں کو پاکستان میڈیکل کالج پڑھنے کے لئیے بھیجنا چاہئیے؟ آج کا پیپر اس لئیے لکھا گیا ہے تاکہ اس موضوع کے بارے میں لوگوں کی سمجھ میں اضافہ ہو۔ یہ دھیان رہے کہ یہ معلومات زاتی تجربے اور مشاہدے پر مبنی [...]

مکمل تحریر پڑھیے »


ٹیگز:-
بچے ہمارا مستقبل
Lubna Mirza نے Wednesday، 19 March 2014 کو شائع کیا.

چین میں یہ تصور عام ہے کہ جو پچھلی نسلیں گذر گئی ہیں وہ لوگوں کی حفاظت کرتی ہیں اور ان پر نظر رکھتی ہیں تاکہ مصیبتیں ان کی نئی نسلوں سے دور رہیں۔  اس بات کی تاریخ یہ ہے کہ ہزاروں سال پہلے جب لوگ بوڑھے ہوجاتے تھے تو وہ مزید کام میں حصہ [...]

مکمل تحریر پڑھیے »


ٹیگز:-
ذیابیطس اور خرافات
Lubna Mirza نے Friday، 14 March 2014 کو شائع کیا.
تعلیم یافتہ جیون ساتھی
Lubna Mirza نے Thursday، 6 March 2014 کو شائع کیا.
تبدیلی کی سطوحات
Lubna Mirza نے Wednesday، 5 March 2014 کو شائع کیا.
انسولین اور غلطیاں
Lubna Mirza نے Monday، 3 March 2014 کو شائع کیا.
اردو کی بدحالی اور غریبی
Lubna Mirza نے Wednesday، 26 February 2014 کو شائع کیا.